چائے گائیڈ چائے بنانا
میری چائے کڑوی کیوں ہوتی ہے؟
تقریباً ہمیشہ اِس لیے کہ وہ بہت دیر اُبالی گئی۔ جو اجزا چائے کو ذائقہ دیتے ہیں وہ پہلے دو تین منٹ میں نکل آتے ہیں؛ جو منہ سکھاتے اور کھردرے لگتے ہیں وہ اُس کے بعد نکلتے ہیں۔ دس منٹ چولھے پر رکھنے سے چائے کڑک نہیں ہوتی، کڑوی ہوتی ہے۔ دوسری سب سے عام وجہ یہ ہے کہ طریقے کی غلطی پوری کرنے کے لیے پتی بڑھا دی جاتی ہے۔
کڑوی چائے کی شکایت ہمیں سب سے زیادہ سننے کو ملتی ہے، اور تقریباً ہر بار بتانے والا تین میں سے کوئی ایک کام کر رہا ہوتا ہے۔ اِن میں سے کوئی بھی غلط چائے خریدنا نہیں ہے۔
میری چائے کڑوی کیوں ہوتی ہے؟
آپ نے اُسے بہت دیر اُبالا
کشید سیدھی لکیر میں نہیں بڑھتی، اور ساری بات یہی ہے۔ چائے اپنی اچھی خوبیاں پہلے چھوڑ دیتی ہے: رنگ، تیزی، مہک، بھاری پن، سب دودھ پڑنے کے بعد پہلے دو سے تین منٹ میں۔ ٹینن اُس کے بعد بہت دیر تک نکلتے رہتے ہیں، اور ٹینن ہی منہ سکھاتے ہیں اور گلے کے پیچھے بیٹھ جاتے ہیں۔
آٹھ دس منٹ چولھے پر پڑا برتن کڑک ہونا بند کر چکا ہے اور کھردرا ہونا شروع کر چکا ہے۔ اگر آپ کی چائے کڑوی ہے اور آپ اُسے کڑک بنانے کے لیے لمبا اُبال رہے ہیں، تو آپ اپنے ہی خلاف کام کر رہے ہیں۔
دودھ کے بعد دو سے تین منٹ۔ گہرا سرخی مائل بھورا رنگ آ جائے تو اتار لیں۔
اعداد و شمار
| چولھے پر وقت | رنگ، بھاری پن، تیزی | کڑواہٹ | مجموعی نتیجہ |
|---|---|---|---|
| 1 منٹ | زیادہ تر، ابھی سے | تقریباً نہیں | پتلی مگر صاف |
| 2 سے 3 منٹ | تقریباً ساری | اب بھی کم | یہی وہ پیالی ہے |
| 5 منٹ | اب کچھ اور نہیں ملے گا | بڑھ رہی ہے | کھردری، کڑک نہیں |
| 8 سے 10 منٹ | اب کچھ اور نہیں ملے گا | زیادہ | زیادہ اُبلی ہوئی |
پھیکی پیالی ٹھیک کرنے کے لیے آپ نے پتی بڑھا دی
یہ دوسری غلطی ہے اور یہ پہلی کے پیچھے آتی ہے۔ پیالی پتلی لگتی ہے، اِس لیے آپ اور پتی ڈال دیتے ہیں، اور اب وہ صرف پتلی نہیں، پتلی اور کڑوی دونوں ہے۔
پھیکا پن عام طور پر طریقے کا مسئلہ ہے، مقدار کا نہیں۔ اگر دودھ پڑنے سے پہلے چائے سادہ پانی میں نہیں اُبلی، تو وہ کبھی ٹھیک سے کھلی ہی نہیں، اور کتنی بھی زائد پتی اِسے ٹھیک نہیں کرتی۔
آپ نے دودھ بہت جلدی ڈال دیا، پھر بھرپائی کی
دودھ کے پروٹین دانوں پر تہہ چڑھا دیتے ہیں اور کشید ہلکی کر دیتے ہیں۔ جو چائے ٹھنڈے دودھ میں ڈالی جائے اُسے تھوڑا سا رنگ دینے کے لیے بھی کہیں لمبا اُبالنا پڑتا ہے، جو آپ کو سیدھا پہلے مسئلے پر واپس لے جاتا ہے۔
پہلے سادہ پانی، تیز اُبال، پورا ایک منٹ۔ پھر دودھ۔
کڑوی، کسیلی اور کڑک تین الگ چیزیں ہیں
اِنہیں الگ کرنا ضروری ہے، کیونکہ اِنہیں ایک ہی سمجھ لیا جاتا ہے اور اِن کی وجوہات مختلف ہیں۔
| ذائقے میں کیا لگتا ہے | وہ کیا ہے | وجہ |
|---|---|---|
| گھونٹ کے آخر پر صاف کاٹ | تیزی۔ یہی آپ کو چاہیے۔ | اچھی آسام پتی، درست طریقے سے بنی |
| خشک، منہ سکیڑتی، زبان پر تہہ چھوڑتی | کسیلا پن۔ اچھی چیز کی زائد مقدار۔ | زیادہ پتی، یا تھوڑا لمبا اُبال |
| کھردری، پھیکی، گلے کے پیچھے بیٹھتی | کڑواہٹ۔ کسی بھی حد تک نہیں چاہیے۔ | زائد اُبال |
رنگ کی گہرائی بھی کڑک پن نہیں ہے۔ پیالی بہت گہری ہو سکتی ہے اور ذائقے میں کچھ بھی نہ ہو، جو تب ہوتا ہے جب خراب چائے کو رنگ نکالنے کے لیے زور سے اُبالا جاتا ہے۔
اور کون سی وجوہات دیکھنی چاہئیں
دوبارہ گرم کرنا۔ دوبارہ گرم کی گئی چائے دو بار اُبالی گئی چائے ہے، اور وہ ہمیشہ کڑوی ہو کر واپس آتی ہے۔ دوبارہ گرم کرنے سے بہتر ہے کم بنائیں۔
پتی اندر ہی چھوڑ دینا۔ اگر آپ برتن بنا کر پتی سمیت پڑا رہنے دیتے ہیں تو برتن میں کشید چلتی رہتی ہے۔ تیار ہوتے ہی چھان لیں، چاہے آپ نے فوراً پینی نہ ہو۔
بہت زیادہ ادرک۔ ادرک کا اپنا کاٹ ہے اور اُسے چائے کی کھردراہٹ سمجھ لینا آسان ہے۔ اگر آپ کی چائے تب سے کڑوی ہوئی جب سے آپ نے ادرک بڑھایا، تو ایک پیالی بغیر ادرک کے بنا کر دیکھیں۔
پرانی یا بُری طرح رکھی ہوئی پتی۔ جو چائے پھیکی پڑ چکی ہو اُس کی پہلے مہک جاتی ہے اور پھر مٹھاس، اور جو بچتا ہے وہ کھردرا لگتا ہے۔ اگر پیالی میں سے کوئی مہک نہیں آتی اور ذائقہ کھردرا ہے، تو مسئلہ پیکٹ میں ہے، برتن میں نہیں۔
حل، ترتیب کے ساتھ
- دودھ کے بعد اُبالنے کا وقت دو سے تین منٹ کر دیں۔
- دودھ پڑنے سے پہلے پتی کو سادہ پانی میں پورا ایک منٹ اُبالیں۔
- فی پیالی ایک ہموار یا بھرے چمچ پر واپس آ جائیں، اِس سے زیادہ نہیں۔
- تیار ہوتے ہی چھانیں اور گرم پئیں۔
یہ چاروں اِسی ترتیب میں کریں اور ایک وقت میں ایک ہی چیز بدلیں۔ بیشتر لوگوں کی بات دوسرے قدم پر ہی بن جاتی ہے۔
پڑھنے سے بات یہیں تک بنتی ہے۔
جس چائے کی یہ ساری بات ہے، 100 گرام سے 1 کلو تک، پورے بھارت میں پہنچائی جاتی ہے۔